ون لائف نیٹ ورک میں جوائننگ اور مائیننگ کا طریقہ کار
OneCoin Hindi

ون لائف نیٹ ورک میں جوائننگ اور مائیننگ کا طریقہ کار

ون لائف نیٹ ورک میں جوائننگ اور مائیننگ کا طریقہ کار

ون کوائن کے ایجوکیشنل پیکجز پر آپ کو پروموشنل ٹوکن گفٹ کے طور پر دئیے جاتے ھیں۔ ھر تعلیمی پیکج پر ٹوکنز کی تعداد مختلف ھے۔ چھوٹے پیکجز پر کم اور بڑے پیکجز پر زیادہ ٹوکنز ملتے ھیں۔
ان ٹوکنز کو ایک سپلٹ سسٹم کے تحت ڈبل کیا جاتا ھے تاکہ ھم زیادہ سے زیادہ کوائن مائن کرسکیں۔ ھر دو سپلٹس کا درمیانی وقت تقریبن 10 ھفتے ھوتا ھے جسے ایک بیرو میٹر کے زریعے دیکھا جاسکتا ھے۔ اسے سپلٹ بیرومیٹر کہتے ھیں۔ یہ بیرو میٹر 0% سے شروع ھو کر جب 100% کو ھٹ کرتا ھے تو ٹوکنز سپلٹ ھوجاتے ھیں۔ پیکج کی سپلٹس مکمل ھونے پر ان ٹوکنز کو فوری طور پر کانوں کی پول میں ڈالا جاتا ھے تاکہ کوائنز مائن کیے جاسکیں۔ ڈیجیٹل کوائنز کے بننے کے عمل کو مائننگ – کہتے ھیں۔ اس کے بعد کوائنز مائن ھو کر ون کوائن اکاؤنٹ میں آجاتے ھیں۔
شروع میں کوائنز کی مائیننگ میں 3 ماہ لگتے تھے۔ مگر جب سے ون کوائن بلاک چین نے دنیا کی جدید ترین بلاک چین – لانچ کی ھے کوائنز بننے کا عمل 3 ماہ کی بجائے 3 منٹ میں مکمل ھو جاتا ھے۔
اب آپ یہ سوچیں گے کہ بلاک چین کیا چیز ھے؟؟؟ بلاک چین دراصل ڈیجیٹل کرنسی کا لیجر ھے جس میں کوائنز کا مکمل ریکارڈ اور ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ ھوتا ھے۔
بلاک چین ٹیکنالوجی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ھے۔ یہ انتہائی محفوظ ترین ھے۔ دنیا کے بڑے بڑے بنک۔ادارے اور حکومتیں تک اپنی اھم معلومات اور ڈیٹا کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عندیہ دے چکی ھیں۔
بلاک چین ٹیکنالوجی دنیا کی جدید ترین ٹیکنالوجی ھے۔ یہ انتہائی محفوظ ترین ھے۔ دنیا کے بڑے بڑے بنک۔ادارے اور حکومتیں تک اپنی اھم معلومات اور ڈیٹا کو بلاک چین پر منتقل کرنے کا عندیہ دے چکی ھیں۔
ون کوائن ایجوکیشنل پیکجز اور ان پر ملنے والے ٹوکنز اور سپلٹس کی تفصیل کچھ یوں ھے:
*سٹارٹر: 1000 ٹوکنز 1 سپلٹ
*ٹریڈر: 5000 ٹوکنز 1سپلٹ
*پرو ٹریڈر: 10000 ٹوکنز 1 سپلٹ
*ایگزیکٹو: 30000 ٹوکنز 1 سپلٹ
*ٹائیکون: 60000 ٹوکنز 2 سپلٹ
ٹائیکون پلس: 81000 ٹوکنز 2 سپلٹ
پریمیم: 150000 ٹوکنز 2 سپلٹ
انفینیٹی: 300000 ٹوکنز 2 سپلٹ
نوٹ: دو یا دو سے زیادہ پیکجز کو ملا کر(combo) نوٹ: دو یا دو سے زیادہ پیکجز کو ملا کر- کر کے لیں تو سپلٹس کی تعداد بڑھ جائے گی جو کہ ٹوکنز کی مجموعی تعداد کو ڈبل کرے گی۔
نوٹ: دو یا دو سے زیادہ پیکجز کو ملا کر(طومار) کر کے لیں تو سپلٹس کی تعداد بڑھ جائے گی جو کہ ٹوکنز کی مجموعی تعداد کو ڈبل کرے گی۔
مثلا اگر آپ سٹارٹر کے ساتھ ٹائیکون اپ گریڈ کرتے ھیں تو ٹوکنز 1000+60000= 61000 ھوجائیں۔ اور 3 سپلٹس ھوں گی۔ یعنی 61000 ٹوکنز 3 بار سپلٹ ھو کر 488000 ھوں گے تب ان کو مائیننگ میں ڈال کر کوائن مائن کریں گے کیونکہ ھمارا اصل مقصود کوائنز کا حصول ھے۔
اب رھا سوال یہ کہ 488000 ٹوکنز کے کتنے کوائنز بنیں گے؟
اس کی تفصیل یہ ھے کہ 1 کوائن مائن کرنے کے لیے ھمیں کچھ ٹوکنز استعمال کرنے ھوتے ھیں اس کو مائنگ ڈفیکلٹی کہتے ھیں۔ اس وقت ڈفیکلٹی 99 ھے۔ یعنی ھمیں 1 کوئن کے حصول کے لیے 99 ٹوکنز دینے ھوں گے۔ اس لحاظ سے اگر 488000 کو 99 پر تقسیم کریں تو 4929 کوائنز بنیں گے۔
جوں جوں کوائن کی ویلیو بڑھے گی ڈیفیکلٹی ریٹ بھی بڑھے گا۔
اس وقت 1 کوائن کی ویلیو تقریبن 10 یورو ھے جو کہ مسلسل بڑھ رھی ھے۔ کمپنی ماھرین کا خیال یہ ھے ھمارے کوائن کی قیمت اپریل 2018 تک کم از کم 25 یورو کو کراس کرے گی۔ اور جب یہ کوائن پبلک میں آئے گا تو پھر اس کی قیمت بہت اوپر جاسکتی ھے جیسے کہ 1  بٹ کوائن کی قیمت 2009 میں 10 روپے تھی اور آج 1 بٹ کوائن 2 لاکھ روپے کا ھے۔ جو کہ کرہ زمین پر سب سے قیمتی چیز بن چکا ھے۔
اب ایک اور سوال بھی زھن میں آتا ھے کہ یہ قیمت کیونکر بڑھ گئی؟؟؟
اس میں بنیادی نقطہ یہ ھے کہ ڈیجیٹل کرنسی کی قیمت معاشیات کے اصول “طلب اور رسد” (فراہمی اور مطالبہ) پر ھے۔ بٹ کوائن کی قیمت آسمان کو چھو رھی ھے اس کی وجہ یہ ھے کہ دنیا میں ڈیجیٹل کرنسی کی طلب اس وقت سونا اور ھیرے جواھرات سے بھی بڑھ چکی ھے۔ آپ خود اندازہ لگائیں ایک ایسا سکہ جسکا وجود بظاھر نظر بھی نہیں آتا وہ 5 تولہ سونے سے زیادہ قیمتی ھے۔
یہ اعداد و شمار ھمیں یہ بتاتے ھیں کہ ڈیجیٹل کرنسی اس وقت کرہ ارض پر سب سے بڑی اپر چونیٹی موقع ھے۔ اس میں انویسٹ منٹ کرکے مستقبل میں بہت بڑا سرمایہ آسانی سے کمایا جا سکتا ھے۔ جیسے بٹ کوائن نے لوگوں ایک بڑی تعداد کو ارب پتی بنایا ھے۔
دنیا میں اس وقت ڈیجیٹل کرنسیز کی تعداد 800 کے لگ بھگ ھے۔ جن میں بٹ کوائن پہلی ڈیجیٹل کرنسی ھے۔ مگر ون کوائن اپنے یوزرز کی تعداد۔ جدید ٹیکنالوجی۔ سب سے بڑی اور جدید بلاک چین۔ کوائن ریزرو۔ محفوظ اور آسان ترین نظام کی بدولت نہ صرف بہترین بلکہ ممتاز ھے۔ جو کہ 2018 میں لانچ ھونے جارھی ھے۔
ضرورت اس امر کی ھے کہ اس اپرچونیٹی کو سمجھ کر اس جدید انقلاب سے ممکنہ فائدہ اٹھایا جائے۔
واضح رھے کہ ڈیجیٹل کرنسی کو کرپٹو کرنسی بھی کہتے ھی